اشتیاق
احمد کی ادبی زندگی؛
پہلا دور؛
اشتیاق احمد نے 1960 سے لکھنا شروع کیا، ابتداء
چھوٹی کہانیوں سے کی اور پھرایک پبلشر کے مشورے سے پہلی بار بچوں کا ایک
ناول لکھا جس کے کردار انسپکٹر جمشید، محمود، فاروق، فرزانہ، انکی والدہ اور بیگم
شیرازی تھے۔ یہ ناول 1972 میں شائع ہوا اس کے بعد آپ نے کئی معروف پبلشرز کیلئے
ناول لکھے اور اسکے ساتھ ساتھ پروف ریڈنگ اور ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا۔
دوسرا دور؛
اس دور میں آپ نے اپنے ذاتی ادارے کے بنیاد رکھی
مکتبہ اشتیاق کے نام سے جس میں نقش صاحب آپ کےساتھ شریک تھے، یہ جنوری 1980 کی بات
ہے۔ اس ادارے سے آپ کی تقریبا'' 150 کتابیں شائع ہوئیں۔
تیسرا دور؛
اسکے بعد 1983 میں آپ نے بغیر شراکت کے اپنےادارہ قائم کیا جس
کا نام اشتیاق پبلیکیشنز رکھا گیا اس ادارے سے آپ کے شاہکار ناول شائع ہوتے رہےاور
یہ آپ کے عروج کا دور تھا۔ بعد میں آپ کے ساتھ طاہر ملک اور سعید مختار شامل ہوئے
اور آپ کے ادارے کا نام بھی تبدیل ہوکے انداز پبلیکیشنزاور پھر انداز بک ڈپورکھا
گیا۔ پھر مالی مشکلات کی وجہ سے آپ کو اپنا ادارہ بند کرنا پڑگیا۔
چوتھا دور؛
ادارہ بند ہونےکے بعد آپنےمشہور اخبار بچوں کا
اسلام کی ادارت سنبھالی اور مختلف کتاب گھر اداروں کیلئےاسلامی کتابیں
لکھیں۔ آپ کے کام کوملک بھر میں بہت پذیرائی ملی۔ اس کے ساتھ آپ نے اٹلانٹس
پبلیکیشنز کیلئے ناول لکھنا شروع کیئے جس کے مالک فاروق احمد ہیں۔
آپ کا اور فاروق احمد کا ساتھ بہت خوش گوار رہا اور
ہمیں بہت ہی شاہکار ناول پڑھنے کو ملے جن کی اشاعت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
وفات؛
اشتاق احمد کا انتقال 17 نومبر 2015 میں کراچی
ائرپورٹ کے لاؤنج میں ہوا۔ انتقال کی وجہ حرکت قلب بند ہوجانا بتایا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی پاکستان میں بچوں کے ادب کا ایک
درخشاں باب اختتام کو پہنچا، اشتیاق احمد اپنی کتابوں کی بدولت ہمیشہ ہمارے دلوں
میں زندہ رہیں گے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنی قیمتی رائے ضرور دیجئے، آپ کی رائے کا شکریہ۔