لیبلز

"اشتیاق احمد میری نظروں میں"

■مضمون■

" اشتیاق احمد آپ کی نظر میں "


 جناب اشتیاق احمد بچوں کی

 جاسوسی دنیا کے سب سے بڑے ناول نگار اور سب سے زیادہ ناول لکھنے والے مصنف ہیں۔ انہوں نے ایسے ایسے ناول لکھے ہیں جس کا کوئی گمان بھی نہیں کر  سکتا۔ اشتیاق احمد صاحب کے ناول جاسوسی ،دین اسلام کو بنیاد بنا کر ، جدید سائنس کے مطابق ہوتے تھے۔ ان کے ناولوں سے بہت کچھ  سیکھنے کو ملتا ہے ۔ انسان الگ ہی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اپنے آپ کو بھی ان کرداروں کی جگہ محسوس کرتا ہے جو ناول میں موجود ہیں۔ ہر لمحہ سسپنس سے بھرپور ہوتا ہے اور قاری کی توجہ بھٹکنے نہیں دیتا ۔اشتیاق احمد کو یہ کمال حاصل تھا کہ آخرتک مجرم کا پتا نہیں لگ پاتا تھا۔ یہ چیز ان کے ناولوں کو منفرد اور  مشہور بنا تی ہے ۔


آپ کی تاریخ پیدائش 5 جون1944 ہے۔ آپ کے والد کا نام مشتاق احمد تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم شیخ لاہوری پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ آپ کی تعلیم صرف میٹرک ہے لیکن اس کے باوجود آپ کی اردو کا کوئی جواب نہیں ہے۔ آپ پیسے کی کمی کے باعث اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکے تھے۔ آپ نے میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا۔ آپ نے اپنی زندگی میں بہت مشکل حالات کا سامنا کیا تھا ۔


اشتیاق احمد صاحب نے اپنی زندگی کی پہلی کہانی اپنی امی جان سے سنی ۔ یہ کہانی ایک چڑا اور چڑیا کی تھی۔ اسی کہانی نے آپ کو کہانیوں کی طرف مانوس کیا اور لکھنا کا شوق بیدار کیا۔ 1972 میں آپ کا پہلا ناول آیا جس کا نام "پیکٹ کا راز"  تھا۔ یہ آپ کی جاسوسی دنیا کا پہلا ناول تھا اور یہ آپ نے صرف پبلیشر کے کہنے پر لکھا تھا۔اشتیاق احمد کے ناول ہر عمر کے لوگ پڑھ سکتے ہیں۔ بعض لوگ یہ بات کہتے ہیں کے ناول نہ پڑھا کرو یہ وقت کا ضیاع ہوتا ہے یہ بات درست بھی ہے لیکن اگر بات اشتیاق احمد کے ناولوں کی ہو تو یہ کہنا مناسب نہ ہوگا ۔ کیوں کہ ہم اس سے بہت کچھ  سیکھتے سکتے ہیں۔ پہلی چیز تو یہ کہ آپ تفریح حاصل کرتے ہیں ۔اگر آ پکا کوئی ضروری  کام رہتا ہو تو ان کے ناول کے آغاز میں ہی لکھا ہوتا ہے کے پہلے دیکھ لیں کہ یہ وقت نماز کا تو نہیں اور آپ کہ ذمے کسی نے کام تو نہیں لگایا ۔دوسری چیز یہ کہ حضرت حدیث جانتے تھے دین  السلام کے بارے میں جانتےتھے اور یہی ان کے ناول میں نظر آتی ہے  اور غیر محسوس انداز میں قاری کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ دوسری چیز آپ دنیا وی علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے  اوراگر کوئی مسئلہ در پیش ہو تو اس کا حل کسے نکالا جاتا  ہے ۔ قاری جدید سائنسی معلومات حاصل کرتے ہیں جیسے ان کا کردار پروفیسر داؤد، جو سائنس کی مدد سے مسئلے کا حل نکالتے تھے۔  حضرت اشتیاق ملک کے دشمن اور دوست کے بارے میں جانتے تھےاور افواج پاکستان کے بارے مکمل علم رکھتے اور قاری کے دل میں انکا مقام بڑھاتے ہیں اور ان کا ایک کردار فوج میں بھی رہ چکا ہے ۔ آپ قانون کے بارے میں بھی جانتے تھے کہ عدالت کے سامنے کیا چیز مجرم ثابت کر سکتی ہے اور کیا بے گناہ اس سےآپ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائی کو جان سکتے ہیں اور اسکا سد باب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ پڑھنے والے کے علم میں یہ بات بھی آئے گی کہ کس طرح اسلام کے دشمن لوگ اسلام کی جڑیں کاٹتے ہیں ۔ یہ چند ایک چیزیں تو ہر ناول کا بنیادی  موضوع الگ  ہوتا ہے تو اسکے بارے میں بھی معلومات بڑھتی ہے لہذا جب آپ ایک ناول سے اتنا کچھ سیکھیں تو یہ تو نہیں کہا جاسکتا ہے یہ وقت کا ضیاع ہے ۔


 اشتیاق احمد کی تحریروں میں آپ کو جو چیز بیان کی جارہی ہے وہ اس حد تک حقیقی محسوس ہوتی ہے کہ ایسا لگتا ہے کے قاری خود ان ہی مشکلات سے گزر رہا ہے جس سے وہ کردار گزر رہے ہوتے ہیں۔ وہ حالات کو ایسے بیان کرتے ہیں کہ قاری ناول سے اپنے توجہ کسی اور طرف مرکوز نہیں کر پاتا اور اسی میں کھو جاتا ہے


حضرت اشتیاق فرما تے تھے کہ انہیں کبھی ناول لکھنے میں دقت نہیں ہوئی بس قلم ہاتھ میں لیتے اور خیالات الفاظ کا روپ دھار کر کاغذ پر نقش ہو جاتے۔ہمیشہ آسان الفاظ کا انتخاب کرتے جو ہر عمر کے قاری کی سمجھ میں آجاتے۔یہ اللہ کا ان پر خاص کرم تھا۔

 اشتیاق احمد صاحب کا امتیاز یہ بھی ہے کہ جرم و سزا پر مبنی جاسوسی ناول وہ اتنی گہرائی سے لکھتے تھے کہ ایسا محسوس ہوتا  کہ وہ فوج یا انسپکٹر  کی پوسٹ پر رہے ہوں لیکن ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ انکا مشاہدہ غضب کا تھاجو انکی تحاریر کو منفرد بناتا ہے ۔


اشتیاق احمد صاحب صرف جاسوسی ناول نگار نہیں تھےبلکہ انہوں نے مزاحیہ ناول ، جاسوسی ڈرامے اور افسانے بھی لکھے تھے ۔


 اشتیاق احمد صاحب مجلس تحفظ ختم نبوت کے رکن بھی تھے اور ہر انکے ہر اجتماع میں اپنی شرکت کو یقینی بناتے تھے ۔انہوں نے ان لوگوں کے خلاف بھی لکھا  تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد بھی نعوذ با للہ کسی  کو نبی مانتے تھے ۔ اسی بناء پر ان کی وادی مرجان مشہور تخلیق ہے ۔  اسی وجہ سے ان کے بہت دشمن تھے ۔ لیکن وہ پھر بھی اس چیز کے خلاف لکھتے رہے ۔ انہوں نے اس برائی کو نوجوانوں اور بچوں پر واضع کیا۔

 اشتیاق احمد سے پہلے کسی نے بھی بین الاقوامی سازشوں کو ناولوں کا موضوع نہیں بنایا لیکن اشتیاق احمد ایک محب وطن شخص تھے لہذا انہوں نے اپنے ملک کے نوجوانوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا اور اس کو ایک مثبت  تفریح کا ذریعہ بھی بنایا۔

 اشتیاق احمد نے اپنی زندگی میں 800 ناول لکھے۔ ان کی وفات 17 نومبر 2015  تو ہوئی۔ ایسی شخصیت سے محروم ہونے کا دکھ ہمیں ہمیشہ رہے گا ۔      عباد احمر

ایک قاری کا تبصرہ اشتیاق احمد کے ناولوں سے متعلق

اشتیاق احمد کے ان ناولوں کے متعلق تبصرہ جب انکا ادارہ بند ہونے کے قریب تھا۔ بہت عمدہ تبصرہ ہے۔

دوستوں آج میں ایک قاری کا تبصرہ پیش کررہا ہوں۔ یہ تبصرہ تمام تبصروں پر بھاری ہے اور میرے دل کی آواز ہے۔ اس خط میں ان کمزوریوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی وجہ سے ناولوں کی اشاعت اور فروخت میں واضح کمی ہوئی اور بہت سے قاری ناولوں سے دور ہوئے۔  سب دوست یہ تبصرہ پڑھیں پھر اپنی قیمتی رائے سے نوازیں۔ شکریہ







جزیروں کا حوّا

جزیروں کا حوّا

اشتیاق احمد مرحوم کے مشہور مجرم جیرال کے بارے میں تفصیلی مضمون، جناب عماد حسن کے قلم سے

 آج ہم بات کرتے ہیں جیرال کی... جی ہاں ”جیرال کا منصوبہ“ والا جیرال!!! داستانوں میں کہانی کے ہیروکرداروں کے علاوہ ولن کرداروں کا بھی بہت اہم مقام ہوتا ہے۔ داستان امیر حمزہ کا افراسیاب ہویا ابن صفی صاحب کے سنگ ہی اور تھریسیا ہوں... عینک والا جن کا ہامون جادو گر ہو یا بیٹ مین سیریز کا جوکر... ان شہرہ آفاق منفی کرداروں کے بغیر یہ داستانیں ادھوری ہیں۔ بچوں کے جاسوسی ادب کے بے تاج بادشاہ جناب اشتیاق احمد نے یوں تو بے حد مشہور ولن کردار متعارف کروائے۔ سلاٹر، کالی آنکھ، لی کاف، رے راٹا، بلائنڈ کنگ، رونل، شیلاک، سی مون، جی موف، زولان، ابظال، بگران اور کئی دیگر۔ مگر جو شہرت اور مقبولیت سب سے پہلے ولن’جیرال‘ کو ملی، وہ شاید کئی مرکزی کرداروں کو بھی حاصل نہ ہوسکی۔ (یہ میری رائے ہے آپ اختلاف بھی کرسکتے ہیں)۔
جیرال کا کردار کم و بیش بائیس (22) ناولوں کا اہم جزو رہا ہے، ان میں 6عام ناول،11خاص نمبر اور5منی خاص نمبر شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی اس کا تذکرہ مزید کئی ناولوں میں ہوتا رہا ہے۔ جیرال کے کردار کی خاصیت اس کی اصول پسندی اور ایمان داری ہے۔ باوجود ملک و قوم کا دشمن ہونے کے، وہ معاہدوں کی پاسداری کرتا نظر آتا ہے اور بعض مقامات پر تو اپنے اصولوں کی خاطر اپنے دوستوں کے خلاف ہمارے کرداروں کا ساتھ دیتا نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سمندروں کے سفر کا ماہر اور جزیروں کا ہوّا بھی تھا۔ کئی مرتبہ اس اصول پسندی اور ایمان داری کو نبھاتے جیرال ہمارے کرداروں کے ساتھ سفر اور مہم جوئی کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔
 اشتیاق احمد صاحب نے جیرال کے علاوہ جیتال (جو جیرال کا بھتیجا بھی تھا) اور سی مون... دو اور ایسے مجرم کردار متعارف کروائے جو جیرال کی ہی طرح بااصول تھے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنی اصول پسندی کے باوجود بھی یہ دو کردار جیرال سا مقام حاصل نہ کرسکے۔ جیرال سب سے پہلے 1978ء میں ناول نمبر31 ”موت کا جزیرہ“ میں سامنے آیا۔ اس وقت یقینناً اشتیاق احمد صاحب کو بھی علم نہیں ہوگا کہ یہ کردار ان کے مرکزی کرداروں کی طرح ہی شہرت پا جائے گا... بلکہ ان کے مشہور کرداروں کی آپس میں پہلی ملاقات کا باعث بھی بنے گا۔ جیرال کی پہلی ملاقات بیگم جمشید سے ہوتی ہے... جب وہ ان کے گھرمیں بلااجازت داخل ہوچکا ہوتا ہے، اس کا حلیہ اشتیاق احمد صاحب نے یوں بیان کیا ہے: ”وہ بہت لمبا چوڑا اور خوفناک شکل صورت کا آدمی تھا۔ اس کی آنکھیں اگرچہ چھوٹی تھیں مگر ان میں بلا کی چمک تھی۔ ہونٹ بھدے، سیاہ اور موٹے تھے۔ سرکے بال گہرے سیاہ اور بہت گھنے تھے۔ ہاتھوں کی پشت اور بازوؤں پر بھی بال ہی بال تھے۔ غرض پہلی نظر میں تو وہ خوفناک ہی لگتا تھا۔ غور سے دیکھنے پر بھی اسے دیکھ کر بدن میں سنسنی سی پیدا ہونا لازمی بات تھی۔

موت کا جزیرہ سے فرار ہونے کے بعد جیرال کی واپسی 1979ء میں ”قلعے کے قیدی“ سلسلے کے پانچ ناولوں نمبر45 تا 49 میں ہوتی ہے۔ یہ واپسی انسپکٹر جمشید اور انسپکٹر کامران مرزا کی پہلی ملاقات کا باعث بھی بنتی ہے۔ دونوں پارٹیاں زندگی میں پہلی بار ملتی ہیں... یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ درحقیقت یہ سلسلہ پہلا خاص نمبر کہلانے کا حق دار بھی ہو سکتا تھا۔ ان پانچ ناولوں میں دونوں پارٹیوں کا سامنا جیرال سے بارہا ہوا اور آخر میں شکست جیرال کا مقدر بنی۔ 
اس کے بعد جیرال پھر سے تیار ہو کر 1980ء میں ناول نمبر75 ”جیرال کا منصوبہ“ میں واپس آتا ہے اور یہ ناول پہلا باضابطہ خاص نمبر قرار پاتا ہے۔ اس میں دونوں پارٹیاں دوسری بار ملتی ہیں اور مل کر جیرال کے منصوبے کا مقابلہ کرتی ہیں۔ جیرال اس مرتبہ اکیلا نہیں آتا ہے... اس کے ساتھ کالی آنکھ بھی آپ کو بھرپور ایکشن میں نظر آئے گا مگر... جیرال اس ناول میں مرجاتا ہے... جی ہاں اس ناول کا دوسرا نام ’جیرا ل کی موت' بھی ہوسکتا تھا!!!
۔سن 1980 سے لے کر 1990ء... دس سال تک جیرال کا تذکرہ ناولوں میں ضرب المثل کی طرح ہوتا رہا اور مرکزی کردار اور قارئین دونوں ہی اس کی یاد میں گم رہے۔ پھرمئی 1990 ناول نمبر 275 میں جیرال واپس آگیا۔ جی ہاں ”سوفی صد جیرال“... مرکر لوٹ کیسے آیا یہ تو آپ ناول پڑھیں گے تو جانیں گے۔ ”سوفی صد جیرال“ میں ٹاکرے کے بعد آئیندہ ماہ ناول نمبر 277 ”جمشید پرکیس“ میں بھی جیرال مہمان کردار کے طور پر نظر آیا اور پھر مکمل منصوبے کے ساتھ 25 ویں خاص نمبر”سمندر کی آگ“ (ناول نمبر 284) 1991ء میں سامنے آیا۔ اس مرتبہ پہلی بار شوکی برادرز بھی اس سے شرف ملاقات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس خاص نمبر کی خاص بات یہ تھی کہ جیرال اس مرتبہ سی مون، جی موف اور زولان کے ہمراہ آیا تھا... یہ اور بات ہے کہ وہ تینوں مارے گئے اور اکیلا جیرال ہی گرفتار ہو گیا۔ جیرال اس کے بعد1991ء میں ہی 26ویں خاص نمبر (ناول نمبر295) ”منصوبے کا اغوا“ میں پھر سے واپس آیا اور اس ناول کے آخر میں ناکام ہو کر فرار ہو گیا۔ 1991ء میں ہی دو منی خاص نمبر ”آواز کے شکار“ اور ”آواز کی موت“ (ناول نمبر 300/301) آئے، دوسرے حصے 
میں جیرال اچانک سامنے آتا ہے اور آخر میں پھر سے اس کا انجام موت ہوتا ہے....جی ہاں دوسری موت!!!۔

چار سال کی مزید خاموشی کے بعد 1995ء کی گرمیوں کی چھٹیاں ایک بار پھر سے جیرال کو قارئین کے سامنے ایک نئے انداز اور نئے جنم میں سامنے لے کر آتی ہیں۔ اس مرتبہ تین خاص نمبر”جیرال“ (خاص نمبر 34 / ناول نمبر 404)، ”ابظال“ (خاص نمبر 35 / ناول نمبر 405) اور ”جیرال + ابظال“ (خاص نمبر 36 / ناول نمبر 406) ایک ساتھ بالترتیب آتے ہیں اور جیرال کے ساتھ آپ کو مافوق الفطرت ابظال بھی ایکشن میں دکھائی دیتا ہے۔ سن 1996 کی گرمیوں کی چھٹیوں میں اشتیاق احمد پھر سے اسی تجربے کے ساتھ تین خاص نمبر سامنے لائے، ان میں جیرال اور ابظال کے ساتھ نئے مجرم راٹور اور جوناٹ بھی پیش پیش تھے۔ یہ خاص نمبر کچھ یوں تھے: ”دنیا کے اس پار“ (خاص نمبر 38 / ناول نمبر 417)، ”سونے کا جہاز“ (خاص نمبر 39 / ناول نمبر 418) اور ”خزانے کی روح“ (خاص نمبر40 / ناول نمبر 419)۔ جیرال1997ء میں 43 ویں خاص نمبر (ناول نمبر423) ”بلیک ہول“میں آخری بار نظر آیا... اور پھر 1997ء سے لے کر 2013ء تک لوگوں کے دلوں میں فقط ایک یاد کی طرح زندہ رہا۔
پندرہ سال بعد اشتیاق احمد”جیرال تین“(ناول نمبر 582) اگست 2012ء میں جیرال کو ایک مرتبہ پھر سے منظر عام پر لائے اور اس کے بعد جیرال 64 ویں خاص نمبر ”بادلوں کے اس پار“ (ناول نمبر 589)جنوری 2014ء میں ہمارے کرداروں کے ساتھ نظر آتا ہے...اس مہم کی خاص بات یہ ہے کہ اس مرتبہ جیرال ہمارے کرداروں کے ساتھ مل کر مہم سر کرتا ہے۔ اشتیاق احمد کے قریباً 13 یا14 ناول ابھی زیر طبع ہیں جو مستقبل قریب میں ممکنہ طورپر ہمارے ہاتھوں میں ہونگے، ان کے ناشرین ”اٹلانٹس“ کے اعلان کے مطابق ایک ناول ”سبران کے قیدی“ میں جیرال پھر سے ہمارے ساتھ ہوگا۔ وہ اس ناول میں زندہ رہے گا یا انجام پائے گا یہ تو ابھی معلوم نہیں، مگر جیرال کا کردار جاسوسی ناولوں کی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہے گا اور اپنی اصول پسندی اور معاہدوں کی پاسداری کی شاندارخوبیوں کی بنا پر دلوں میں دھڑکتا رہے گا۔