لیبلز

تبصرے

 اشتیاق احمد کے ناولوں اور دیگر کتابوں سے متعلق تبصرے آپ اس پیج پر ملاحضہ کرسکتے ہیں۔ یہ تبصرے میری اپنی رائے پر مشتمل ہیں۔

پہلا تبصرہ؛ 1972 سے 1980 تک کی کتابیں۔

سب سے اچھا جیرال کی واپسی سیریز لگا پھر سرخ تیر سیریز اور تیسرے نمبر پر جیرال کا منصوبہ۔اس کے علاوہ دو حصوں والے تمام ناول بہت اچھےثابت ہوئے۔

عام ناول جوزیادہ نمبر لےسکے انکے نام درج ذیل ہیںشیشے کا بکس۔ چھپا رستم۔ پارسل میں بم۔ ایک سازش ایک جال۔ توپ کی چوریاس کے علاوہ کامران مرزا کے ناول خوفناک مکھی، سولہ تیر تین فائر اور شوکی کا ناول انڈونیشیا کا ہوا قابل ذکر ہیں۔

دوسرا تبصرہ؛ جنوری 1981 سے دسمبر 1984 کی کتابیں۔

پچھلی بارمتفرق کتب نہیں پڑھی تھیں، اس دفعہ ان کا بھی ذکر کیا ہے۔ متفرق کتب ذیادہ پسند نہیں آئیں، کچھ کتابوں کو شروع کرکے ختم کرنا مشکل ھوگیا تھا، بہرحال ان میں سے سونے کی کتاب اور خونی جنگل بہتر تھیں۔ لیکن میری کہانی بہت شاندار کتاب رہی۔

اب آتے ہیں ناولوں پر، اس دفعہ سب سے اچھا ناول شیطان کے پجاری رہا، دوسرے نمبر پر دنیا کے قیدی اور پھر جھیل کی موت۔ باقی خاص نمبربھی بہت زیادہ اچھے رہے ماسوائےسلاٹر کی واپسی کے۔ دو حصوں والے تمام ناول بہت شاندار رہے خاص طور پےپراسرارمہم ۔ خونی کیمپ اور کامران سیریز میں گمشدہ جسم ۔ تیسرارخ۔ بہترین عام ناولوں میں کالا طوفان، مخلص قاتل،خونی دعوت اور شوکی کا چھپامجرم رہیں۔

اب بات کرتے ہیں دیگر اچھے ناولوں کی، انسپکٹر جمشید سیریز کے اچھے ناولوں کے نام یہ ہیں، سوٹ کیس کا سفر، مجرم کا خوف، زلزلےکا فرار، خونی تجربہ، دوسرا کیمرہ، چوتھا ٹکڑا، سازش کا شکار اور وادئ مرجان ۔ کامران مرزا سیریز کے بہتر ناول گڑیا کاچکر، مظلوم قاتل، اور خوف کا شکار اور شوکی سیریز میں بلاعنوان ناول بہتر رہے۔

تیسرا تبصرہ؛ جنوری 1985 سے جون 1988کی کتابیں۔

سب سے اچھا ناول سنہری چٹان، دوسرے نمبر پر باطل قیامت اور جزیرے کا سمندر تیسرے نمبر پر رہا۔ خاص نمبر سارے بہت عمدہ رہے، الگ پارٹیوں والے خاص نمبروں میں کامران مرزا کا بگ باس اول، پرخوف فتنہ دوسرے نمبر پر رہا۔ اس بار ماکوش سیریز اور خطرناک دس سیریز بہت اچھا تجربہ تھے، اور اس دفعہ ہی معلوم ہوا کہ دس کا مطلب کیا ہے۔

 دو حصوں والے تمام ناول بھی بہترین رہے، خاص طور پر موناکا سیریز، جو پچھلے تمام دو حصوں والے ناولوں سے بازی لے گیا (نوٹ فرمالیں)۔ اعلیٰ ترین ناول انسپکٹر جمشید سیریز کے، انشارجہ کا جاسوس، اوچھا وار، قاتل خاکہ رہے۔ باقی سیریز میں کوئی ناول عروج پر نہیں پہنچ سکا۔

 اس کے علاوہ بہترین ناولوں میں بدنصیب ہوٹل اور ٹرین کی تلاش، انسپکٹر کامران مرزا سیریز میں تیسری شیشی، موت کا جام، قاتل مورتی اور لاش کا پروگرام رہے اور شوکی سیریز میں ستارہ گروپ بہترین ناول تھے۔ کچھ ناول کا تزکرہ انیس بیس کے فرق سے رہ گیا ورنہ وہ بھی بہت اچھے تھے۔

 متفرق ناولوں میں انسپکٹر نوید سیریز کے ناول بہت پسند آئے اور غلام احمد قادیانی بھی بہت معلوماتی کتاب ہے۔

اس دور کے بعد پھر کبھی بھی تینوں پارٹیوں کے ناول باقاعدہ نہیں لکھے گئے۔ ہر چھ ماہ بعد تینوں پارٹیاں ایک دوسرے سے ملتی تھیں جو کہ بہت دلچسپ ہوتا تھا ہمارے لئے، لیکن یہ چیز بھی پھر نہیں دیکھنے میں آئی۔

 جمشید سیریز کے ناول ہی عروج پر پہنچ سکے اور جمشید پارٹی کو ہی زیادہ تر باقیوں سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی، خاص نمبروں میں یہ بات زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ شوکی سیریز میں زیادہ تر شوکی ہی چھایا رہتا تھا باقی فالتو محسوس ہوتے تھے۔ کچھ ناول پڑھ کے احساس ہوا کہ انہیں جلدی ختم کردیا جبکہ مزید لکھا جا سکتا تھا، شاید اسی لیے منی خاص نمبر کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

چوتھا تبصرہ؛ جولائی 1988 سے دسمبر 1992کی کتابیں۔

منی خاص نمبر ایک نیا اور اچھا تجربہ ثابت ہوا لیکن پھر تینوں پارٹیوں کے بار بار شامل ہونے سے ناولوں میں مزہ کم ہوگیا، اور جب صرف انسپکٹر جمشید پارٹی کے منی خاص نمبر آنے لگے تو معیار میں اضافہ ہوا اور کئی شاہکار ناول پڑھنے کو ملے۔

انسپکٹر کامران مرزا پارٹی اور شوکی برادرز کے کردار مہمانوں کے طور پر ہی رہ گئے کیونکہ انکے نئے ناول عملاً ختم ہو گئے اور مشترکہ مہم میں انکو انسپکٹر جمشید پارٹی سے کم اہمیت دی جاتی رہی۔ پہلے بچہ پارٹی میں شوکی نمایاں رہتا تھا لیکن اب نہیں۔

منی خاص نمبر پڑھتے ہوئے عام ناول بہت یاد آئے کیونکہ ایک اچھا ناول جتنے نمبر حاصل کرتا تھا تقریباً اتنے ہی ایک منی خاص نمبر کے آرہے ہیں۔

اس بار سب سے اچھا ناول سمندر کی آگ ثابت ہوا، دوسرے نمبر پر دفن شدہ شہر اور پھر اغواء کی ملکہ۔اب بات کرتے ہیں ڈھائی سو صفحات والے ناولوں کی جس میں خاص نمبر بھی شامل ہیں۔ سب سے شاندار ناول خونی پہلو ہے، یہ ناول اتنا زیادہ آگے نکل گیا کہ اسکے مقابلے کا پھر کوئی ناول شاید نہ ہو۔

اسکے بعد فتنے کی چوری زبردست ناول ہے اور انکے بعد جو شاہکار ناول ہیں انکے نام یہ ہیں؛ محل کی تلاش۔ خوفناک الزام۔ موت کا غار۔ خونی بولیاسکے علاوہ دشمن چٹانیں، یوڈا پر حملہ، لاشوں کا ساحل اور ساحل کی موت بھی بہت اعلیٰ ناول ہیں۔کچھ شاہکار ناول تھوڑے فرق کی وجہ سے تبصرے سے رہ گئے۔

پانچواں تبصرہ؛ جنوری 1993 سے دسمبر 1996کی کتابیں۔

اس بار منی خاص نمبر کے ساتھ ساتھ عام ناول، میڈیم خاص نمبر اور خاص نمبر کی مکس چاٹ ملی اور بہت مزہ آیا۔اس بار عام ناول سب سے بازی لے گئے۔ کافی زیادہ اچھے ناول ہونے کی وجہ سے صرف خاص الخاص ناولوں کا ذکر کرونگا جن کے نام درج ذیل ہیں

ایجاد کا خون۔ منصوبہ ساز۔ قاتل گھرانہ۔ موت کی سازش

منی خاص نمبر میں صرف روحوں کی واپسی بہتر رہا اور 450 صفحات والے ناولوں میں سب سےبہترین ناول</a> موت کے ہرکارے رہا۔ اسکے علاوہ جیرال+ابظال، قاتل کاریں اور سنسنی خیز ناول تصویر کی موت بھی قابل ذکر ہے۔متفرق کہانیوں میں خونی سیر اور چوری کی لڑکی بہت زبردست ہیں۔اور آخر میں مجموعی طور پر سب سے اچھا ناول دائرے کا سمندر رہا، دوسرے نمبر پر دنیا کے اس پار اور دلدل کا سمندر تیسرے نمبر پر ہے۔

چھٹا تبصرہ؛ جنوری 1997 سے فروری 2002 کی کتابیں۔

دور کافی طویل ہے اس لئے تبصرہ بھی طویل ہے۔ بہت دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ اس دور کے بعد اشتیاق احمد کا اپنا ادارہ بند ہو گیا تھا، (آخری ناول کی دو باتوں میں اس کا ذکر ہے) جس کی بہت سی وجوہات تھیں لیکن میں صرف ناول کے حساب سے بات کروں گا۔

سب سے زیادہ نقصان میڈیم خاص نمبر نے پہنچایا، ضخامت کے چکر میں ناول بور سے بور ہونے لگے یہاں تک کہ شاہکار ناول غار کا سمندر میں بھی کئی جگہ بوریت محسوس ہوئی، کرداروں کی باتیں اور جملے بھی یکسانیت سے خالی نہیں۔ زیادہ تر خاص نمبر بھی بلاوجہ طوالت کا شکار نظر آئے جس سے ناول کو ختم کرنا مسئلہ بن جاتا ہے جبکہ موضوعات بہت بہترین ہیں۔آخر میں عام ناول لکھے گئے جو بہت بہتر تھے لیکن ان میں یہ مسئلہ تھا کہ اختتام بہت عجلت میں ہوتا ہے اور انسپکٹر جمشید بیٹھے بیٹھے پورا کیس حل کر لیا کرتے ہیں۔

شاہکار ناولوں میں سب سے پہلے منی خاص نمبر حویلی میں موت کا ذکر کروں گا صفحات کے لحاظ سے اس ناول نے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئے، سسپنس اور مہم جوئی سے بھرپور بہت ہی شاہکار ناول ثابت ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ناول اندھیرے کا شکاری اور خون کا خواب بھی قابلِ ذکر ہے۔

نمبر کے لحاظ سے سب سے اچھا ناول غار کا سمندر، دوسرے نمبر پر اژدہا سیریز اور بلیک ہول تیسرے نمبر پر رہا۔ "اناشا سیریز" فورس کی تباہی سے لیکر لہروں کا خون تک ناول بہت زبردست جا رہا تھا لیکن اس کے بعد سے ناول بہت بور ہوگیا۔میڈیم خاص نمبر میں سب سے اچھا فرٹان لاء، دوسرے نمبر پر چکر کی تہہ اور پھر مجرم چھلانگ تیسرے نمبر پر رہا۔

عام ناولوں میں موت کا ڈاک بنگلہ، جیل کا خواب، موت کا کیپسول اور تیسرے کی تلاش مناسب ناول تھے۔

آخری تبصرہ؛ 2013 سے جاری و ساری

السلام وعلیکم، آپ کا کراچی والا ایڈمن اپنے آخری تبصرے کے ساتھ حاضر ہے۔ ایک طویل وقفے کے بعد جولائی 2013 میں اشتیاق احمد مرحوم کے ناول اٹلانٹس پبلیکیشن سے شائع ہونے شروع ہوئے اور کئی شاہکار ناول پڑھنے کو ملے۔ فاروق احمد کی کوششوں سے اشتیاق احمد مرحوم نے ماضی کو آواز دی اور ہمیں پرانے انداز کے ناول ملے۔ تصاویر میں آپ ایسی ہی باتیں پڑھیں گے۔

 اس بار بھی عام ناول ہی زیادہ بہتر ثابت ہوئے خاص طور پر شوکی سیریز کے ناولوں نے بہت مزہ دیا۔ صرف شاہکار ناولوں کی بات کی جائے تو انسپکٹر جمشید سیریز میں خوف کا سایہ، سیل کی تباہ کاری، خوفناک چال اور اندھا جرم سب سے بہترین تھے۔ شوکی سیریز میں اغوا کا جال، جھوٹ کی فصل، نیلی روشنی اور متفرق کتابوں میں ہولناک پروگرام نے بھرپور مزہ دیا۔ اشتیاق احمد مرحوم کی آپ بیتی "میری کہانی" تمام جاسوسی ناولوں سےبڑھ کر ثابت ہوئی۔

 منی خاص نمبروں میں لی شن پلان سب سے زیادہ اچھا لگا۔ اس کے علاوہ انجانی طاقت، سازش کا دیوتا بہترین ناول جبکہ چاند کی لاش, پاگل واپسی, آسمانی آوازیں اور انگلی کا خوف قابل ذکر ناول ہیں۔ "کچھ ناولوں کو پڑھ کر محسوس ہوا کہ یہ اشتیاق احمد مرحوم کا طرزِ تحریر نہیں"، بہرحال مجموعی لحاظ سے سب سے اچھا ناول بادلوں کے اس پار رہا۔ دوسرے نمبر پر پہاڑ کا سمندر اور انکارہ مشن مہم جوئی کی وجہ سے تیسرے نمبر پر ہے۔ انکارہ مشن میں واقعات میں تکرر اور ماورائی باتیں نہ ہوتیں تو یہ ناول پچھلے ریکارڈ توڑ دیتا۔

 ایک افسوسناک چیز جو پڑھنے کو ملی وہ ابنِ صفی کے کرداروں کی بلاوجہ شمولیت تھی۔ خاص طور پر بٹوما کے شیطان میں علی عمران کو جس طرح دکھایا گیا اس کے لئے فاروق احمد صاحب کو کبھی بھی معاف نہیں کیا جائےگا۔

اشتیاق احمد کے نئے ناول


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنی قیمتی رائے ضرور دیجئے، آپ کی رائے کا شکریہ۔