لیبلز

  • Blog
Blog لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Blog لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

"اشتیاق احمد میری نظروں میں"

■مضمون■

" اشتیاق احمد آپ کی نظر میں "


 جناب اشتیاق احمد بچوں کی

 جاسوسی دنیا کے سب سے بڑے ناول نگار اور سب سے زیادہ ناول لکھنے والے مصنف ہیں۔ انہوں نے ایسے ایسے ناول لکھے ہیں جس کا کوئی گمان بھی نہیں کر  سکتا۔ اشتیاق احمد صاحب کے ناول جاسوسی ،دین اسلام کو بنیاد بنا کر ، جدید سائنس کے مطابق ہوتے تھے۔ ان کے ناولوں سے بہت کچھ  سیکھنے کو ملتا ہے ۔ انسان الگ ہی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اپنے آپ کو بھی ان کرداروں کی جگہ محسوس کرتا ہے جو ناول میں موجود ہیں۔ ہر لمحہ سسپنس سے بھرپور ہوتا ہے اور قاری کی توجہ بھٹکنے نہیں دیتا ۔اشتیاق احمد کو یہ کمال حاصل تھا کہ آخرتک مجرم کا پتا نہیں لگ پاتا تھا۔ یہ چیز ان کے ناولوں کو منفرد اور  مشہور بنا تی ہے ۔


آپ کی تاریخ پیدائش 5 جون1944 ہے۔ آپ کے والد کا نام مشتاق احمد تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم شیخ لاہوری پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ آپ کی تعلیم صرف میٹرک ہے لیکن اس کے باوجود آپ کی اردو کا کوئی جواب نہیں ہے۔ آپ پیسے کی کمی کے باعث اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکے تھے۔ آپ نے میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا۔ آپ نے اپنی زندگی میں بہت مشکل حالات کا سامنا کیا تھا ۔


اشتیاق احمد صاحب نے اپنی زندگی کی پہلی کہانی اپنی امی جان سے سنی ۔ یہ کہانی ایک چڑا اور چڑیا کی تھی۔ اسی کہانی نے آپ کو کہانیوں کی طرف مانوس کیا اور لکھنا کا شوق بیدار کیا۔ 1972 میں آپ کا پہلا ناول آیا جس کا نام "پیکٹ کا راز"  تھا۔ یہ آپ کی جاسوسی دنیا کا پہلا ناول تھا اور یہ آپ نے صرف پبلیشر کے کہنے پر لکھا تھا۔اشتیاق احمد کے ناول ہر عمر کے لوگ پڑھ سکتے ہیں۔ بعض لوگ یہ بات کہتے ہیں کے ناول نہ پڑھا کرو یہ وقت کا ضیاع ہوتا ہے یہ بات درست بھی ہے لیکن اگر بات اشتیاق احمد کے ناولوں کی ہو تو یہ کہنا مناسب نہ ہوگا ۔ کیوں کہ ہم اس سے بہت کچھ  سیکھتے سکتے ہیں۔ پہلی چیز تو یہ کہ آپ تفریح حاصل کرتے ہیں ۔اگر آ پکا کوئی ضروری  کام رہتا ہو تو ان کے ناول کے آغاز میں ہی لکھا ہوتا ہے کے پہلے دیکھ لیں کہ یہ وقت نماز کا تو نہیں اور آپ کہ ذمے کسی نے کام تو نہیں لگایا ۔دوسری چیز یہ کہ حضرت حدیث جانتے تھے دین  السلام کے بارے میں جانتےتھے اور یہی ان کے ناول میں نظر آتی ہے  اور غیر محسوس انداز میں قاری کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ دوسری چیز آپ دنیا وی علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے  اوراگر کوئی مسئلہ در پیش ہو تو اس کا حل کسے نکالا جاتا  ہے ۔ قاری جدید سائنسی معلومات حاصل کرتے ہیں جیسے ان کا کردار پروفیسر داؤد، جو سائنس کی مدد سے مسئلے کا حل نکالتے تھے۔  حضرت اشتیاق ملک کے دشمن اور دوست کے بارے میں جانتے تھےاور افواج پاکستان کے بارے مکمل علم رکھتے اور قاری کے دل میں انکا مقام بڑھاتے ہیں اور ان کا ایک کردار فوج میں بھی رہ چکا ہے ۔ آپ قانون کے بارے میں بھی جانتے تھے کہ عدالت کے سامنے کیا چیز مجرم ثابت کر سکتی ہے اور کیا بے گناہ اس سےآپ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائی کو جان سکتے ہیں اور اسکا سد باب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ پڑھنے والے کے علم میں یہ بات بھی آئے گی کہ کس طرح اسلام کے دشمن لوگ اسلام کی جڑیں کاٹتے ہیں ۔ یہ چند ایک چیزیں تو ہر ناول کا بنیادی  موضوع الگ  ہوتا ہے تو اسکے بارے میں بھی معلومات بڑھتی ہے لہذا جب آپ ایک ناول سے اتنا کچھ سیکھیں تو یہ تو نہیں کہا جاسکتا ہے یہ وقت کا ضیاع ہے ۔


 اشتیاق احمد کی تحریروں میں آپ کو جو چیز بیان کی جارہی ہے وہ اس حد تک حقیقی محسوس ہوتی ہے کہ ایسا لگتا ہے کے قاری خود ان ہی مشکلات سے گزر رہا ہے جس سے وہ کردار گزر رہے ہوتے ہیں۔ وہ حالات کو ایسے بیان کرتے ہیں کہ قاری ناول سے اپنے توجہ کسی اور طرف مرکوز نہیں کر پاتا اور اسی میں کھو جاتا ہے


حضرت اشتیاق فرما تے تھے کہ انہیں کبھی ناول لکھنے میں دقت نہیں ہوئی بس قلم ہاتھ میں لیتے اور خیالات الفاظ کا روپ دھار کر کاغذ پر نقش ہو جاتے۔ہمیشہ آسان الفاظ کا انتخاب کرتے جو ہر عمر کے قاری کی سمجھ میں آجاتے۔یہ اللہ کا ان پر خاص کرم تھا۔

 اشتیاق احمد صاحب کا امتیاز یہ بھی ہے کہ جرم و سزا پر مبنی جاسوسی ناول وہ اتنی گہرائی سے لکھتے تھے کہ ایسا محسوس ہوتا  کہ وہ فوج یا انسپکٹر  کی پوسٹ پر رہے ہوں لیکن ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ انکا مشاہدہ غضب کا تھاجو انکی تحاریر کو منفرد بناتا ہے ۔


اشتیاق احمد صاحب صرف جاسوسی ناول نگار نہیں تھےبلکہ انہوں نے مزاحیہ ناول ، جاسوسی ڈرامے اور افسانے بھی لکھے تھے ۔


 اشتیاق احمد صاحب مجلس تحفظ ختم نبوت کے رکن بھی تھے اور ہر انکے ہر اجتماع میں اپنی شرکت کو یقینی بناتے تھے ۔انہوں نے ان لوگوں کے خلاف بھی لکھا  تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد بھی نعوذ با للہ کسی  کو نبی مانتے تھے ۔ اسی بناء پر ان کی وادی مرجان مشہور تخلیق ہے ۔  اسی وجہ سے ان کے بہت دشمن تھے ۔ لیکن وہ پھر بھی اس چیز کے خلاف لکھتے رہے ۔ انہوں نے اس برائی کو نوجوانوں اور بچوں پر واضع کیا۔

 اشتیاق احمد سے پہلے کسی نے بھی بین الاقوامی سازشوں کو ناولوں کا موضوع نہیں بنایا لیکن اشتیاق احمد ایک محب وطن شخص تھے لہذا انہوں نے اپنے ملک کے نوجوانوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا اور اس کو ایک مثبت  تفریح کا ذریعہ بھی بنایا۔

 اشتیاق احمد نے اپنی زندگی میں 800 ناول لکھے۔ ان کی وفات 17 نومبر 2015  تو ہوئی۔ ایسی شخصیت سے محروم ہونے کا دکھ ہمیں ہمیشہ رہے گا ۔      عباد احمر

ایک قاری کا تبصرہ اشتیاق احمد کے ناولوں سے متعلق

اشتیاق احمد کے ان ناولوں کے متعلق تبصرہ جب انکا ادارہ بند ہونے کے قریب تھا۔ بہت عمدہ تبصرہ ہے۔

دوستوں آج میں ایک قاری کا تبصرہ پیش کررہا ہوں۔ یہ تبصرہ تمام تبصروں پر بھاری ہے اور میرے دل کی آواز ہے۔ اس خط میں ان کمزوریوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی وجہ سے ناولوں کی اشاعت اور فروخت میں واضح کمی ہوئی اور بہت سے قاری ناولوں سے دور ہوئے۔  سب دوست یہ تبصرہ پڑھیں پھر اپنی قیمتی رائے سے نوازیں۔ شکریہ







جزیروں کا حوّا

جزیروں کا حوّا

اشتیاق احمد مرحوم کے مشہور مجرم جیرال کے بارے میں تفصیلی مضمون، جناب عماد حسن کے قلم سے

 آج ہم بات کرتے ہیں جیرال کی... جی ہاں ”جیرال کا منصوبہ“ والا جیرال!!! داستانوں میں کہانی کے ہیروکرداروں کے علاوہ ولن کرداروں کا بھی بہت اہم مقام ہوتا ہے۔ داستان امیر حمزہ کا افراسیاب ہویا ابن صفی صاحب کے سنگ ہی اور تھریسیا ہوں... عینک والا جن کا ہامون جادو گر ہو یا بیٹ مین سیریز کا جوکر... ان شہرہ آفاق منفی کرداروں کے بغیر یہ داستانیں ادھوری ہیں۔ بچوں کے جاسوسی ادب کے بے تاج بادشاہ جناب اشتیاق احمد نے یوں تو بے حد مشہور ولن کردار متعارف کروائے۔ سلاٹر، کالی آنکھ، لی کاف، رے راٹا، بلائنڈ کنگ، رونل، شیلاک، سی مون، جی موف، زولان، ابظال، بگران اور کئی دیگر۔ مگر جو شہرت اور مقبولیت سب سے پہلے ولن’جیرال‘ کو ملی، وہ شاید کئی مرکزی کرداروں کو بھی حاصل نہ ہوسکی۔ (یہ میری رائے ہے آپ اختلاف بھی کرسکتے ہیں)۔
جیرال کا کردار کم و بیش بائیس (22) ناولوں کا اہم جزو رہا ہے، ان میں 6عام ناول،11خاص نمبر اور5منی خاص نمبر شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی اس کا تذکرہ مزید کئی ناولوں میں ہوتا رہا ہے۔ جیرال کے کردار کی خاصیت اس کی اصول پسندی اور ایمان داری ہے۔ باوجود ملک و قوم کا دشمن ہونے کے، وہ معاہدوں کی پاسداری کرتا نظر آتا ہے اور بعض مقامات پر تو اپنے اصولوں کی خاطر اپنے دوستوں کے خلاف ہمارے کرداروں کا ساتھ دیتا نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سمندروں کے سفر کا ماہر اور جزیروں کا ہوّا بھی تھا۔ کئی مرتبہ اس اصول پسندی اور ایمان داری کو نبھاتے جیرال ہمارے کرداروں کے ساتھ سفر اور مہم جوئی کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔
 اشتیاق احمد صاحب نے جیرال کے علاوہ جیتال (جو جیرال کا بھتیجا بھی تھا) اور سی مون... دو اور ایسے مجرم کردار متعارف کروائے جو جیرال کی ہی طرح بااصول تھے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنی اصول پسندی کے باوجود بھی یہ دو کردار جیرال سا مقام حاصل نہ کرسکے۔ جیرال سب سے پہلے 1978ء میں ناول نمبر31 ”موت کا جزیرہ“ میں سامنے آیا۔ اس وقت یقینناً اشتیاق احمد صاحب کو بھی علم نہیں ہوگا کہ یہ کردار ان کے مرکزی کرداروں کی طرح ہی شہرت پا جائے گا... بلکہ ان کے مشہور کرداروں کی آپس میں پہلی ملاقات کا باعث بھی بنے گا۔ جیرال کی پہلی ملاقات بیگم جمشید سے ہوتی ہے... جب وہ ان کے گھرمیں بلااجازت داخل ہوچکا ہوتا ہے، اس کا حلیہ اشتیاق احمد صاحب نے یوں بیان کیا ہے: ”وہ بہت لمبا چوڑا اور خوفناک شکل صورت کا آدمی تھا۔ اس کی آنکھیں اگرچہ چھوٹی تھیں مگر ان میں بلا کی چمک تھی۔ ہونٹ بھدے، سیاہ اور موٹے تھے۔ سرکے بال گہرے سیاہ اور بہت گھنے تھے۔ ہاتھوں کی پشت اور بازوؤں پر بھی بال ہی بال تھے۔ غرض پہلی نظر میں تو وہ خوفناک ہی لگتا تھا۔ غور سے دیکھنے پر بھی اسے دیکھ کر بدن میں سنسنی سی پیدا ہونا لازمی بات تھی۔

موت کا جزیرہ سے فرار ہونے کے بعد جیرال کی واپسی 1979ء میں ”قلعے کے قیدی“ سلسلے کے پانچ ناولوں نمبر45 تا 49 میں ہوتی ہے۔ یہ واپسی انسپکٹر جمشید اور انسپکٹر کامران مرزا کی پہلی ملاقات کا باعث بھی بنتی ہے۔ دونوں پارٹیاں زندگی میں پہلی بار ملتی ہیں... یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ درحقیقت یہ سلسلہ پہلا خاص نمبر کہلانے کا حق دار بھی ہو سکتا تھا۔ ان پانچ ناولوں میں دونوں پارٹیوں کا سامنا جیرال سے بارہا ہوا اور آخر میں شکست جیرال کا مقدر بنی۔ 
اس کے بعد جیرال پھر سے تیار ہو کر 1980ء میں ناول نمبر75 ”جیرال کا منصوبہ“ میں واپس آتا ہے اور یہ ناول پہلا باضابطہ خاص نمبر قرار پاتا ہے۔ اس میں دونوں پارٹیاں دوسری بار ملتی ہیں اور مل کر جیرال کے منصوبے کا مقابلہ کرتی ہیں۔ جیرال اس مرتبہ اکیلا نہیں آتا ہے... اس کے ساتھ کالی آنکھ بھی آپ کو بھرپور ایکشن میں نظر آئے گا مگر... جیرال اس ناول میں مرجاتا ہے... جی ہاں اس ناول کا دوسرا نام ’جیرا ل کی موت' بھی ہوسکتا تھا!!!
۔سن 1980 سے لے کر 1990ء... دس سال تک جیرال کا تذکرہ ناولوں میں ضرب المثل کی طرح ہوتا رہا اور مرکزی کردار اور قارئین دونوں ہی اس کی یاد میں گم رہے۔ پھرمئی 1990 ناول نمبر 275 میں جیرال واپس آگیا۔ جی ہاں ”سوفی صد جیرال“... مرکر لوٹ کیسے آیا یہ تو آپ ناول پڑھیں گے تو جانیں گے۔ ”سوفی صد جیرال“ میں ٹاکرے کے بعد آئیندہ ماہ ناول نمبر 277 ”جمشید پرکیس“ میں بھی جیرال مہمان کردار کے طور پر نظر آیا اور پھر مکمل منصوبے کے ساتھ 25 ویں خاص نمبر”سمندر کی آگ“ (ناول نمبر 284) 1991ء میں سامنے آیا۔ اس مرتبہ پہلی بار شوکی برادرز بھی اس سے شرف ملاقات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس خاص نمبر کی خاص بات یہ تھی کہ جیرال اس مرتبہ سی مون، جی موف اور زولان کے ہمراہ آیا تھا... یہ اور بات ہے کہ وہ تینوں مارے گئے اور اکیلا جیرال ہی گرفتار ہو گیا۔ جیرال اس کے بعد1991ء میں ہی 26ویں خاص نمبر (ناول نمبر295) ”منصوبے کا اغوا“ میں پھر سے واپس آیا اور اس ناول کے آخر میں ناکام ہو کر فرار ہو گیا۔ 1991ء میں ہی دو منی خاص نمبر ”آواز کے شکار“ اور ”آواز کی موت“ (ناول نمبر 300/301) آئے، دوسرے حصے 
میں جیرال اچانک سامنے آتا ہے اور آخر میں پھر سے اس کا انجام موت ہوتا ہے....جی ہاں دوسری موت!!!۔

چار سال کی مزید خاموشی کے بعد 1995ء کی گرمیوں کی چھٹیاں ایک بار پھر سے جیرال کو قارئین کے سامنے ایک نئے انداز اور نئے جنم میں سامنے لے کر آتی ہیں۔ اس مرتبہ تین خاص نمبر”جیرال“ (خاص نمبر 34 / ناول نمبر 404)، ”ابظال“ (خاص نمبر 35 / ناول نمبر 405) اور ”جیرال + ابظال“ (خاص نمبر 36 / ناول نمبر 406) ایک ساتھ بالترتیب آتے ہیں اور جیرال کے ساتھ آپ کو مافوق الفطرت ابظال بھی ایکشن میں دکھائی دیتا ہے۔ سن 1996 کی گرمیوں کی چھٹیوں میں اشتیاق احمد پھر سے اسی تجربے کے ساتھ تین خاص نمبر سامنے لائے، ان میں جیرال اور ابظال کے ساتھ نئے مجرم راٹور اور جوناٹ بھی پیش پیش تھے۔ یہ خاص نمبر کچھ یوں تھے: ”دنیا کے اس پار“ (خاص نمبر 38 / ناول نمبر 417)، ”سونے کا جہاز“ (خاص نمبر 39 / ناول نمبر 418) اور ”خزانے کی روح“ (خاص نمبر40 / ناول نمبر 419)۔ جیرال1997ء میں 43 ویں خاص نمبر (ناول نمبر423) ”بلیک ہول“میں آخری بار نظر آیا... اور پھر 1997ء سے لے کر 2013ء تک لوگوں کے دلوں میں فقط ایک یاد کی طرح زندہ رہا۔
پندرہ سال بعد اشتیاق احمد”جیرال تین“(ناول نمبر 582) اگست 2012ء میں جیرال کو ایک مرتبہ پھر سے منظر عام پر لائے اور اس کے بعد جیرال 64 ویں خاص نمبر ”بادلوں کے اس پار“ (ناول نمبر 589)جنوری 2014ء میں ہمارے کرداروں کے ساتھ نظر آتا ہے...اس مہم کی خاص بات یہ ہے کہ اس مرتبہ جیرال ہمارے کرداروں کے ساتھ مل کر مہم سر کرتا ہے۔ اشتیاق احمد کے قریباً 13 یا14 ناول ابھی زیر طبع ہیں جو مستقبل قریب میں ممکنہ طورپر ہمارے ہاتھوں میں ہونگے، ان کے ناشرین ”اٹلانٹس“ کے اعلان کے مطابق ایک ناول ”سبران کے قیدی“ میں جیرال پھر سے ہمارے ساتھ ہوگا۔ وہ اس ناول میں زندہ رہے گا یا انجام پائے گا یہ تو ابھی معلوم نہیں، مگر جیرال کا کردار جاسوسی ناولوں کی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہے گا اور اپنی اصول پسندی اور معاہدوں کی پاسداری کی شاندارخوبیوں کی بنا پر دلوں میں دھڑکتا رہے گا۔

اشتیاق احمد کے بور ناول

 اشتیاق احمد صاحب نے کہانیوں اور ناولوں پر اتنا زیادہ کام کیا ہے کہ اسکا احاطہ کرنا ایک مشکل کام ہے۔ اس مضمون میں ایسی ہی کوشش کے ذریعے ان ناولوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو کہ نسبتاً کم معیار کے تھے اور جنہیں پڑھتے ہوئے بوریت محسوس ہوئی۔ اس مضمون کا مقصد اشتیاق احمد پر تنقید نہیں بلکہ ان ناولوں کا ذکر کرنا ہے جو عام طور پر تذکرے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اور اس مضمون سے وہ ناول بھی تبصرے میں آجائیں گے۔

جب ہم اشتیاق احمد کے شاہکار ناول پڑھتے ہیں تو ہمارا معیار اونچا ہو جاتا ہے، لہٰذا ایک سیدھا سادھا عام ناول پڑھتے ہوئے ہم بور ہو جاتے  ہیں اور ذہن میں آتا ہے کہ یہ فلاں ناول کی طرح ثابت نہ ہو سکا۔ ابتدائی دور کے ناولوں میں شاہکار ناول تعداد میں زیادہ تھےاوراس وقت کے عام ناول بھی دلچسپ اور سسپنس سے بھرپور ہوتے تھے۔ جبکہ آخری دور میں ایسے ناول پڑھنے کو ملے کہ جن کو پڑھتے ہوئے دل چاہتا تھا کہ یہ جلدی سے ختم ہو جائیں اور اس کی جگہ کوئی دوسرا اچھا ناول پڑھنے کو ملے۔ ضخامت کی وجہ سے بھی بہت سے ناول بوریت کا شکار ہوئے۔

اب ذکر ہوتا ہے اس معیار کا جس کی بدولت ہم ایک ناول کو معیاری اور غیر معیاری کا درجہ دیتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے، جس ناول کو پڑھتے ہوئے آپ ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز ہو جائیں اور ناول کو آخر تک پڑھ کر ہی چھوڑیں، مزید یہ کہ وہ ناول بعد میں بھی آپ کے ذہن پر چھایا رہے تو اسی کو ہم شاہکار ناول کی فہرست میں ڈال سکتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ ناول جس کو پڑھتے ہوئے آپ بار بار اِدھر ادھر متوجہ ہوتے رہیں، جلد ناول ختم کرنا چاہیں لیکن وہ ختم ہونے کا نام نہ لے اور ناول کے اختتام پر آپ بولیں "شکر ہے ناول تو نبٹا" تو ایسے ناول کو ظاہر ہے ایک معمولی ناول ہی تصور کیا جائے گا۔

اب ذرا ایسے ناولوں کا ذکر شروع کرتے ہیں۔ ابتدائی دور میں ناول نسبتاً اچھے لکھے گئے تھے، ان میں جو ناول کم نمبر کے تھے وہ بھی سسپنس سے خالی نہ تھے۔ جب دوسرے شاہکار ناول موجود ہوں تو ایک عام سا ناول کمزور ہی محسوس ہوگا۔ جیسا کہ ناول "حاتم کا باپ" اور "جراب کا ہنگامہ"۔ اسی طرح خاص نمبر "سلاٹر کی واپسی" چونکہ فرمائش پر لکھا گیا تھا اور اس کے مقابلے میں " انسانی دھواں" ایک بہت ہی شاندار ناول تھا اس لئے یہ نسبتاً بور محسوس ہوا۔ مارکوش سیریز میں تینوں پارٹیوں کے ناولوں میں مارکوش کو شامل کرنے کا تجربہ کیا گیا جس میں "مارکوش وار" اور "مارکوش کی چال" بور ناول ثابت ہوئے۔ ژابنائے مہم سے پہلے انتہائی شاہکار خاص نمبر "بیگال مشن" لکھا گیا اور بعد میں "سی مون کی واپسی" لہٰذا نسبتاً ژابنائے مہم ایک کمزور خاص نمبر رہا جبکہ وہ آنے والے کئی خاص نمبروں سے بہتر تھا۔  

اصل بور ناول "منی خاص نمبر" سلسلے کے بعد شروع ہوئے۔ ناول بمٹالی کا میدان اور خاص نمبر "جی موف+سی مون" بور ثابت ہوئے۔ خاص نمبر "ثبوت کی تلاش" اور "ژاب کے جلاد، ہیڈ کوارٹر کی تلاش" بھی بلاوجہ طوالت کا شکار نظر آئے اس لئے بور ثابت ہوئے۔ خاص نمبر "منصوبے کا اغوا" بھی ایک بور ترین ناول تھا اور بعد میں "سازش کا دماغ"، موت کا علاج اور "ناکامی کا تحفہ" بھی بور ناولوں میں جگہ حاصل کرسکے۔ پھر دوبارہ سے عام ناول لکھے گئے جن میں "زندہ قبرستان، قبرستان کی موت" اور ناول اونٹ رے اونٹ کے علاوہ باقی سارے ناول بہتر تھے۔

میڈیم خاص نمبر کے دور میں ناول اور زیادہ بور ہو گئے۔ جن ناولوں میں بگران اور شارا آئے ان میں سے اکثر بہت بور تھے۔ خاص طور پر "جنگ اور جنگ" تو بور ترین ناول ثابت ہوا۔ اس کے علاوہ جن باس، جیرال، جاف کا جال، خزانے کی روح، راموشا کا فتنہ، پوری موت، جرم کا دائرہ، اندھا شکار، روٹان تین، سورج کا خوف، دوسری دنیا کا انسان، سازش تیار تھی، ساتواں کون، شنکو چال، بھوت اور بے دل انسان بلاوجہ کی ضخامت کی وجہ سے بور ناول ثابت ہوئے جبکہ انکے موضوع بہت اچھے تھے۔

آخری دور میں دوبارہ سے عام ناول اور منی خاص ناول لکھے گئے جو نسبتاً کچھ بہتر تھے، اس دور کے بور ناولوں میں گلے کی ہڈی، لنگڑا گروپ، دیوتا کا چور، موت اور صرف موت، جواراٹا کا وار، کیسٹ کا راز، اور آگ کا خون شامل ہیں۔ جبکہ ناول آسیب کا جال، ماہر قاتل اور خزانے کا طوفان کم نمبروں کے باوجود سسپنس سے بھرپور ناول ہیں۔

اپنا ذاتی ادارہ بند ہونے کے بعد اشتیاق احمد مرحوم نے "ایم آئی ایس" اور اٹلانٹس والوں کے لئے ناول لکھے۔ ایسا محسوس ہوا کہ 1974 والا دور دوبارہ آگیا۔ لیکن پھر اکثرناول بور بھی لکھے گئے جوتعداد میں کافی زیادہ ہیں اس لئے انکے نام لکھنا مشکل ہے۔ 

اشتیاق احمد مرحوم نے بہت زیادہ شاہکار ناول لکھے ہیں، ان ناولوں سے مقابلہ کرتے ہوئے کچھ ناول کمزور یا بور ثابت ہوجاتے ہیں لیکن اپنی حیثیت میں وہ اچھے اور محنت سے لکھے گئے ناول ہوتے ہیں، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اشتیاق احمد کا کوئی بھی ناول بیکار نہیں۔ 


اشتیاق احمد صاحب سے ایک ملاقات

اشتیاق احمد صاحب سے ایک ملاقات

اشتیاق احمد مرحوم کے فین(قاری) ابو عبداللہ عماد حسن کے قلم سے ایک دلچسپ روئداد

 

ایک دن یہ خوش خبری ملی کہ اپریل 2011 ء کے لاہور ایکسپو پر اٹلانٹس اورفاروق احمد آرہے ہیں۔ اور صرف یہ ہی نہیں،بلکہ اس سے بڑھ کر خود ہمارے محبوب مصنف جناب اشتیاق احمد بھی وہاں تشریف لارہے ہیں۔ یقینا یہ زندگی کی چند بڑی خوشی کی خبروں میں سے ایک خبر تھی۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میری اس دور کے اس عظیم مصنف اور ایسی کمال کی ہستی سے ملاقات ہونے جارہی تھی۔

آخر خدا خدا کر کے اتوار 10 اپریل 2011ء کا دن آیا اورمیں اپنے والد، بھائی اور بیٹے کے ہمراہ ایکسپوسنٹر کی جانب رواں ہوا۔ دھڑکنیں بے چین تھیں کہ ایک محبوب اورتاریخی شخصیت سے پہلی مرتبہ ملاقات ہونے جارہی تھی۔

ایکسپوسنٹر میں داخل ہوتے ہی نگاہیں انھیں ڈھونڈنے میں مصروف ہوگئیں، تیز تیز قدموں کے ساتھ اپنے باقی ہمراہیوں سے آگے آگے اٹلانٹس کے اسٹال کی تلاش میں چلنا شروع کیا اور آخر کار جلد ہی پرستاروں کے جھرمٹ میں اشتیاق احمد صاحب بیٹھے نظر آگئے۔ جب میں قریب پہنچا تو اچانک وہ تمام لوگ اِدھر اُدھر ہوگئے، یوں لگا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے خاص علیحدہ جگہ بناڈالی۔

ایک جانب سے فاروق بھائی مسکراتے آئے اور گلے لگا لیا۔ پھر میں اشتیاق احمد انکل سے بغل گیر ہوا۔ میرا تعارف فاروق بھائی نے فیس بک پیج کے سب سے مستقل اورمتحرک ممبر کی حیثیت سے کروایا جو میر ے لیے نہایت ا عزازکی بات تھی۔

فاروق بھائی اسٹال کی طرف چلے گئے اور میں اشتیاق انکل کے ساتھ بیٹھ گیا اور کئی منٹ تک باتیں ہوتی رہیں۔ میں گفتگو میں اتنا مدہوش تھا کہ باتوں کی تفصیل بھی یاد نہ رہی، مگر اتنا یاد ہے کہ باتیں میرے ناول”پُرخوف رات“کے پڑھنے سے لے کر ”عمران کی واپسی“ کی متوقع اشاعت تک بہت طویل تھیں۔ چھوٹے بھائی عدیل سے تصاویر لینے کا کہا تو یہ بھی یاد نہ رہا کہ محترم والد صاحب، بھائی اور فرزند کی بھی تصاویرلے لی جائیں،یہاں تک کہ آٹو گراف پر اپنا نام بھی جو کہ بجائے”عماد حسن“ کے”حماد حسن“لکھا گیا تھا، اس پر بھی غور نہ کیا۔

ملاقات کا نشہ ہی کچھ ایسا تھا، مگربھائی شہباز مرزا کے لیے آٹو گراف لینا نہیں بھولا تھا۔ اتنی دیر میں فاروق بھائی بھی واپس آگئے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ اشتیاق انکل نے انہیں آتے دیکھ کر میرے پاس ہو کرزور سے کہا؛

ان سے پوچھیں ”عمران کی واپسی“ کب شائع کررہے ہیں"؟"

میں نے فارروق بھائی کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا کر بولے؛

"ان شاء اللہ بہت جلد ایسا ہوگا"

اس کے بعد مزید پرستار آنا شروع ہوگئے اور میں نے بھاری دل سے ان دونوں سے اجازت لی۔ آج سوچتا ہوں کہ کاش اشتیاق انکل اور فاروق بھائی کواس دن اپنے گھرآنے کی دعوت بھی دے دیتا تو وہ ضرور قبول کرتے، مگر میں تکلف میں، کہ اتنے بڑے مصنف کہاں یہ مانیں گے ایسا نہ کہہ سکا۔

یہ پہلی اورآخری ملاقات ختم ہوگئی، مگر یہ وقت کو معلوم تھا کہ اس ملاقات کے اثرات نہ ختم ہونے والے ہوں گے اور خود میں ایک انجانی طاقت رکھنے ہوں گے۔

اشیاق احمد کے انوکھے کردار

 

اشتیاق احمد بچوں کے ناولوں کے ایک نامور مصنف ہیں، جنہوں نے 1972 سے لیکر 2015 تک ناول اور دیگر موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں۔ ہم بات کریں گے انکے مشہور کرداروں کی جو عام لوگوں سے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے ماورا نظر آتے ہیں۔

شروع کے ناولوں میں کردار بہت سادہ انداز میں جاسوسی کے معاملات دیکھا کرتے تھے، ایک کیس کئی ہفتے تک بھی چلتا تھا، اور روایتی انداز میں پولیس سے مدد لیکر کیس کو اختتام تک پہنچایا جاتا تھا۔ لڑائی کے میدان میں بھی ایک حد تک مجرموں سے مقابلہ کر پاتے تھے، خاص طور پر کرداروں میں شامل بچے طاقتور مجرموں سے مقابلہ نہیں کرسکتے تھے، اس کیلئے وہ اپنی عقل استعمال کرکے ان مجرموں کو شکست دیا کرتے تھے۔

لیکن آہستہ آہستہ بعد کے ناولوں میں یہ کردار مافوق الفطرت بنتے چلے گئے، کئی کئی مجرموں سے ایک ہی وقت میں مقابلہ، کیس کے اختتام کے لئے خفیہ فورس کا استعمال، بغیر کھائے پیئےاور آرام کئے مسلسل کام کرنا، یہ تمام باتیں ناولوں کو حقیقت سے دور کر دیتی ہیں۔ ناولوں میں ذکر کی گئی خفیہ فورس کی بھی سمجھ نہیں آتی، دنیا کے ہر کونے میں کوئی نہ کوئی خفیہ والا موجود ہوتا ہے جس کو ہر قسم کی معلومات ہوتی ہے، اور مزے کی بات یہ کہ اس نے انسپکٹر جمشید سے ٹریننگ بھی لی ہوئی ہوتی ہے، ان سے زیادہ نڈر اور وفادار بھی کوئی نہیں ملتا۔

اکثر کھانا سامنے لگا ہوتا ہے کہ کوئی فون آجاتا ہے اور ہمارے کردار کھانا چھوڑ کر روانہ ہوجاتے ہیں، جبکہ کھانا سامنے ہو تو نماز کی جماعت چھوڑنے کا حکم شریعت میں موجود ہے، ویسے بھی کھانے میں تقریباً 15 منٹ صرف ہوتے ہیں تو پہلے کھانے سے فارغ ہو کر بھی کیس کے سلسلے میں روانہ ہوا جا سکتا ہے۔ ملک کے صدر صاحب کو بھی فون پر یہی کہنا اچھا لگتا ہے کہ جمشید فوراً چلے آؤ۔ اب چاہے انسپکٹر جمشید کو واش روم جانا ہو  یا کوئی اور فطری ضرورت؛ لیکن صدر صاحب کا حکم فوراً سے پہلے پہنچنے کا کچھ جچتا نہیں ہے۔

اسی طرح بیگم جمشید کو بلاوجہ کم وقت میں کھانا پکانے کا ماہر بتانا کوئی ضروری نہیں تھا، تین منٹ میں نرگسی کوفتے تیار کرنا ناممکنات میں سے ہے، اگر کوئی کر سکتا ہے تو مجھے لازمی بتائیں، میں اسی ویب سائٹ میں ان کے نام سے پوسٹ لگا دوں گا۔ شوکی برادرز بہرحال ان مافوق الفطرت صلاحیتوں سے مبرا رہے اس لئے ان کے ناول بھی آخر تک لکھے گئے اور ان کا موجودہ ناول نیلی روشنی ایک بہت عمدہ ناول ہے۔ لیکن کچھ خاص نمبروں میں یہ بھی بھیڑ چال کا شکار نظر آئے۔

یہی وجہ  ہے کہ اشتیاق احمد مرحوم کے پرانے ناول آج تک زیادہ پسند کئے جاتے ہیں بہ نسبت نئے ناولوں کے۔