اشتیاق احمد بچوں کے ناولوں کے ایک نامور مصنف ہیں، جنہوں نے 1972 سے لیکر 2015 تک ناول اور دیگر موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں۔ ہم بات کریں گے انکے مشہور کرداروں کی جو عام لوگوں سے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے ماورا نظر آتے ہیں۔
شروع کے ناولوں میں کردار بہت سادہ انداز میں جاسوسی کے معاملات دیکھا کرتے تھے، ایک کیس کئی ہفتے تک بھی چلتا تھا، اور روایتی انداز میں پولیس سے مدد لیکر کیس کو اختتام تک پہنچایا جاتا تھا۔ لڑائی کے میدان میں بھی ایک حد تک مجرموں سے مقابلہ کر پاتے تھے، خاص طور پر کرداروں میں شامل بچے طاقتور مجرموں سے مقابلہ نہیں کرسکتے تھے، اس کیلئے وہ اپنی عقل استعمال کرکے ان مجرموں کو شکست دیا کرتے تھے۔
لیکن آہستہ آہستہ بعد کے ناولوں میں یہ کردار مافوق الفطرت بنتے چلے گئے، کئی کئی مجرموں سے ایک ہی وقت میں مقابلہ، کیس کے اختتام کے لئے خفیہ فورس کا استعمال، بغیر کھائے پیئےاور آرام کئے مسلسل کام کرنا، یہ تمام باتیں ناولوں کو حقیقت سے دور کر دیتی ہیں۔ ناولوں میں ذکر کی گئی خفیہ فورس کی بھی سمجھ نہیں آتی، دنیا کے ہر کونے میں کوئی نہ کوئی خفیہ والا موجود ہوتا ہے جس کو ہر قسم کی معلومات ہوتی ہے، اور مزے کی بات یہ کہ اس نے انسپکٹر جمشید سے ٹریننگ بھی لی ہوئی ہوتی ہے، ان سے زیادہ نڈر اور وفادار بھی کوئی نہیں ملتا۔
اکثر کھانا سامنے لگا ہوتا ہے کہ کوئی فون آجاتا ہے اور ہمارے کردار کھانا چھوڑ کر روانہ ہوجاتے ہیں، جبکہ کھانا سامنے ہو تو نماز کی جماعت چھوڑنے کا حکم شریعت میں موجود ہے، ویسے بھی کھانے میں تقریباً 15 منٹ صرف ہوتے ہیں تو پہلے کھانے سے فارغ ہو کر بھی کیس کے سلسلے میں روانہ ہوا جا سکتا ہے۔ ملک کے صدر صاحب کو بھی فون پر یہی کہنا اچھا لگتا ہے کہ جمشید فوراً چلے آؤ۔ اب چاہے انسپکٹر جمشید کو واش روم جانا ہو یا کوئی اور فطری ضرورت؛ لیکن صدر صاحب کا حکم فوراً سے پہلے پہنچنے کا کچھ جچتا نہیں ہے۔
اسی طرح بیگم جمشید کو بلاوجہ کم وقت میں کھانا پکانے کا ماہر بتانا کوئی ضروری نہیں تھا، تین منٹ میں نرگسی کوفتے تیار کرنا ناممکنات میں سے ہے، اگر کوئی کر سکتا ہے تو مجھے لازمی بتائیں، میں اسی ویب سائٹ میں ان کے نام سے پوسٹ لگا دوں گا۔ شوکی برادرز بہرحال ان مافوق الفطرت صلاحیتوں سے مبرا رہے اس لئے ان کے ناول بھی آخر تک لکھے گئے اور ان کا موجودہ ناول نیلی روشنی ایک بہت عمدہ ناول ہے۔ لیکن کچھ خاص نمبروں میں یہ بھی بھیڑ چال کا شکار نظر آئے۔
یہی وجہ ہے کہ اشتیاق احمد مرحوم کے پرانے ناول آج تک زیادہ پسند کئے جاتے ہیں بہ نسبت نئے ناولوں کے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنی قیمتی رائے ضرور دیجئے، آپ کی رائے کا شکریہ۔