لیبلز

اشتیاق احمد صاحب سے ایک ملاقات

اشتیاق احمد صاحب سے ایک ملاقات

اشتیاق احمد مرحوم کے فین(قاری) ابو عبداللہ عماد حسن کے قلم سے ایک دلچسپ روئداد

 

ایک دن یہ خوش خبری ملی کہ اپریل 2011 ء کے لاہور ایکسپو پر اٹلانٹس اورفاروق احمد آرہے ہیں۔ اور صرف یہ ہی نہیں،بلکہ اس سے بڑھ کر خود ہمارے محبوب مصنف جناب اشتیاق احمد بھی وہاں تشریف لارہے ہیں۔ یقینا یہ زندگی کی چند بڑی خوشی کی خبروں میں سے ایک خبر تھی۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میری اس دور کے اس عظیم مصنف اور ایسی کمال کی ہستی سے ملاقات ہونے جارہی تھی۔

آخر خدا خدا کر کے اتوار 10 اپریل 2011ء کا دن آیا اورمیں اپنے والد، بھائی اور بیٹے کے ہمراہ ایکسپوسنٹر کی جانب رواں ہوا۔ دھڑکنیں بے چین تھیں کہ ایک محبوب اورتاریخی شخصیت سے پہلی مرتبہ ملاقات ہونے جارہی تھی۔

ایکسپوسنٹر میں داخل ہوتے ہی نگاہیں انھیں ڈھونڈنے میں مصروف ہوگئیں، تیز تیز قدموں کے ساتھ اپنے باقی ہمراہیوں سے آگے آگے اٹلانٹس کے اسٹال کی تلاش میں چلنا شروع کیا اور آخر کار جلد ہی پرستاروں کے جھرمٹ میں اشتیاق احمد صاحب بیٹھے نظر آگئے۔ جب میں قریب پہنچا تو اچانک وہ تمام لوگ اِدھر اُدھر ہوگئے، یوں لگا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے خاص علیحدہ جگہ بناڈالی۔

ایک جانب سے فاروق بھائی مسکراتے آئے اور گلے لگا لیا۔ پھر میں اشتیاق احمد انکل سے بغل گیر ہوا۔ میرا تعارف فاروق بھائی نے فیس بک پیج کے سب سے مستقل اورمتحرک ممبر کی حیثیت سے کروایا جو میر ے لیے نہایت ا عزازکی بات تھی۔

فاروق بھائی اسٹال کی طرف چلے گئے اور میں اشتیاق انکل کے ساتھ بیٹھ گیا اور کئی منٹ تک باتیں ہوتی رہیں۔ میں گفتگو میں اتنا مدہوش تھا کہ باتوں کی تفصیل بھی یاد نہ رہی، مگر اتنا یاد ہے کہ باتیں میرے ناول”پُرخوف رات“کے پڑھنے سے لے کر ”عمران کی واپسی“ کی متوقع اشاعت تک بہت طویل تھیں۔ چھوٹے بھائی عدیل سے تصاویر لینے کا کہا تو یہ بھی یاد نہ رہا کہ محترم والد صاحب، بھائی اور فرزند کی بھی تصاویرلے لی جائیں،یہاں تک کہ آٹو گراف پر اپنا نام بھی جو کہ بجائے”عماد حسن“ کے”حماد حسن“لکھا گیا تھا، اس پر بھی غور نہ کیا۔

ملاقات کا نشہ ہی کچھ ایسا تھا، مگربھائی شہباز مرزا کے لیے آٹو گراف لینا نہیں بھولا تھا۔ اتنی دیر میں فاروق بھائی بھی واپس آگئے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ اشتیاق انکل نے انہیں آتے دیکھ کر میرے پاس ہو کرزور سے کہا؛

ان سے پوچھیں ”عمران کی واپسی“ کب شائع کررہے ہیں"؟"

میں نے فارروق بھائی کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا کر بولے؛

"ان شاء اللہ بہت جلد ایسا ہوگا"

اس کے بعد مزید پرستار آنا شروع ہوگئے اور میں نے بھاری دل سے ان دونوں سے اجازت لی۔ آج سوچتا ہوں کہ کاش اشتیاق انکل اور فاروق بھائی کواس دن اپنے گھرآنے کی دعوت بھی دے دیتا تو وہ ضرور قبول کرتے، مگر میں تکلف میں، کہ اتنے بڑے مصنف کہاں یہ مانیں گے ایسا نہ کہہ سکا۔

یہ پہلی اورآخری ملاقات ختم ہوگئی، مگر یہ وقت کو معلوم تھا کہ اس ملاقات کے اثرات نہ ختم ہونے والے ہوں گے اور خود میں ایک انجانی طاقت رکھنے ہوں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنی قیمتی رائے ضرور دیجئے، آپ کی رائے کا شکریہ۔