اشتیاق احمد صاحب نے کہانیوں اور ناولوں پر اتنا زیادہ کام کیا ہے کہ اسکا احاطہ کرنا ایک مشکل کام ہے۔ اس مضمون میں ایسی ہی کوشش کے ذریعے ان ناولوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو کہ نسبتاً کم معیار کے تھے اور جنہیں پڑھتے ہوئے بوریت محسوس ہوئی۔ اس مضمون کا مقصد اشتیاق احمد پر تنقید نہیں بلکہ ان ناولوں کا ذکر کرنا ہے جو عام طور پر تذکرے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اور اس مضمون سے وہ ناول بھی تبصرے میں آجائیں گے۔
جب ہم اشتیاق احمد کے شاہکار ناول پڑھتے ہیں تو ہمارا معیار اونچا ہو جاتا ہے، لہٰذا ایک سیدھا سادھا عام ناول پڑھتے ہوئے ہم بور ہو جاتے ہیں اور ذہن میں آتا ہے کہ یہ فلاں ناول کی طرح ثابت نہ ہو سکا۔ ابتدائی دور کے ناولوں میں شاہکار ناول تعداد میں زیادہ تھےاوراس وقت کے عام ناول بھی دلچسپ اور سسپنس سے بھرپور ہوتے تھے۔ جبکہ آخری دور میں ایسے ناول پڑھنے کو ملے کہ جن کو پڑھتے ہوئے دل چاہتا تھا کہ یہ جلدی سے ختم ہو جائیں اور اس کی جگہ کوئی دوسرا اچھا ناول پڑھنے کو ملے۔ ضخامت کی وجہ سے بھی بہت سے ناول بوریت کا شکار ہوئے۔
اب ذکر ہوتا ہے اس معیار کا جس کی بدولت ہم ایک ناول کو معیاری اور غیر معیاری کا درجہ دیتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے، جس ناول کو پڑھتے ہوئے آپ ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز ہو جائیں اور ناول کو آخر تک پڑھ کر ہی چھوڑیں، مزید یہ کہ وہ ناول بعد میں بھی آپ کے ذہن پر چھایا رہے تو اسی کو ہم شاہکار ناول کی فہرست میں ڈال سکتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ ناول جس کو پڑھتے ہوئے آپ بار بار اِدھر ادھر متوجہ ہوتے رہیں، جلد ناول ختم کرنا چاہیں لیکن وہ ختم ہونے کا نام نہ لے اور ناول کے اختتام پر آپ بولیں "شکر ہے ناول تو نبٹا" تو ایسے ناول کو ظاہر ہے ایک معمولی ناول ہی تصور کیا جائے گا۔
اب ذرا ایسے ناولوں کا ذکر شروع کرتے ہیں۔ ابتدائی دور میں ناول نسبتاً اچھے لکھے گئے تھے، ان میں جو ناول کم نمبر کے تھے وہ بھی سسپنس سے خالی نہ تھے۔ جب دوسرے شاہکار ناول موجود ہوں تو ایک عام سا ناول کمزور ہی محسوس ہوگا۔ جیسا کہ ناول "حاتم کا باپ" اور "جراب کا ہنگامہ"۔ اسی طرح خاص نمبر "سلاٹر کی واپسی" چونکہ فرمائش پر لکھا گیا تھا اور اس کے مقابلے میں " انسانی دھواں" ایک بہت ہی شاندار ناول تھا اس لئے یہ نسبتاً بور محسوس ہوا۔ مارکوش سیریز میں تینوں پارٹیوں کے ناولوں میں مارکوش کو شامل کرنے کا تجربہ کیا گیا جس میں "مارکوش وار" اور "مارکوش کی چال" بور ناول ثابت ہوئے۔ ژابنائے مہم سے پہلے انتہائی شاہکار خاص نمبر "بیگال مشن" لکھا گیا اور بعد میں "سی مون کی واپسی" لہٰذا نسبتاً ژابنائے مہم ایک کمزور خاص نمبر رہا جبکہ وہ آنے والے کئی خاص نمبروں سے بہتر تھا۔
اصل بور ناول "منی خاص نمبر" سلسلے کے بعد شروع ہوئے۔ ناول بمٹالی کا میدان اور خاص نمبر "جی موف+سی مون" بور ثابت ہوئے۔ خاص نمبر "ثبوت کی تلاش" اور "ژاب کے جلاد، ہیڈ کوارٹر کی تلاش" بھی بلاوجہ طوالت کا شکار نظر آئے اس لئے بور ثابت ہوئے۔ خاص نمبر "منصوبے کا اغوا" بھی ایک بور ترین ناول تھا اور بعد میں "سازش کا دماغ"، موت کا علاج اور "ناکامی کا تحفہ" بھی بور ناولوں میں جگہ حاصل کرسکے۔ پھر دوبارہ سے عام ناول لکھے گئے جن میں "زندہ قبرستان، قبرستان کی موت" اور ناول اونٹ رے اونٹ کے علاوہ باقی سارے ناول بہتر تھے۔
میڈیم خاص نمبر کے دور میں ناول اور زیادہ بور ہو گئے۔ جن ناولوں میں بگران اور شارا آئے ان میں سے اکثر بہت بور تھے۔ خاص طور پر "جنگ اور جنگ" تو بور ترین ناول ثابت ہوا۔ اس کے علاوہ جن باس، جیرال، جاف کا جال، خزانے کی روح، راموشا کا فتنہ، پوری موت، جرم کا دائرہ، اندھا شکار، روٹان تین، سورج کا خوف، دوسری دنیا کا انسان، سازش تیار تھی، ساتواں کون، شنکو چال، بھوت اور بے دل انسان بلاوجہ کی ضخامت کی وجہ سے بور ناول ثابت ہوئے جبکہ انکے موضوع بہت اچھے تھے۔
آخری دور میں دوبارہ سے عام ناول اور منی خاص ناول لکھے گئے جو نسبتاً کچھ بہتر تھے، اس دور کے بور ناولوں میں گلے کی ہڈی، لنگڑا گروپ، دیوتا کا چور، موت اور صرف موت، جواراٹا کا وار، کیسٹ کا راز، اور آگ کا خون شامل ہیں۔ جبکہ ناول آسیب کا جال، ماہر قاتل اور خزانے کا طوفان کم نمبروں کے باوجود سسپنس سے بھرپور ناول ہیں۔
اپنا ذاتی ادارہ بند ہونے کے بعد اشتیاق احمد مرحوم نے "ایم آئی ایس" اور اٹلانٹس والوں کے لئے ناول لکھے۔ ایسا محسوس ہوا کہ 1974 والا دور دوبارہ آگیا۔ لیکن پھر اکثرناول بور بھی لکھے گئے جوتعداد میں کافی زیادہ ہیں اس لئے انکے نام لکھنا مشکل ہے۔
اشتیاق احمد مرحوم نے بہت زیادہ شاہکار ناول لکھے ہیں، ان ناولوں سے مقابلہ کرتے ہوئے کچھ ناول کمزور یا بور ثابت ہوجاتے ہیں لیکن اپنی حیثیت میں وہ اچھے اور محنت سے لکھے گئے ناول ہوتے ہیں، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اشتیاق احمد کا کوئی بھی ناول بیکار نہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنی قیمتی رائے ضرور دیجئے، آپ کی رائے کا شکریہ۔